Hajj حج

حج کے لغوی معنی قصداً اور ارادے کے ہیں اور اصطلاحِ شریعت میں حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور کعبہ معظمہ کے طواف کا مکہ کے مختلف مقاماتِ مقدسہ میں حاضر ہو کر کچھ آداب و اعمال بجالانا بھی حج میں شامل ہیں، حج کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے کہ اس میں یہ افعال کئے جائیں تو حج ہے ورنہ نہیں

حج ۹ ؁ھ میں فرض ہوا اور اس کی فرضیت قطعی ہے جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے اور دائرہِ اسلام سے خارج مگر عمر میں صرف ایک بار فرض ہے۔

حج و عمرہ کی ادائیگی کا طریقہ اور اس کے آداب یہ ہیں:۱۔ چلتے وقت اپنے دوستوں، عزیزوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے اور وقتِ رخصت سب سے دعا لے اور ان سب کے دین و جان اولادو مال اور تندرستی و عافیت خدا کو وسو نپے کو یہ بھی برکتیں پائے گا اور وہ بھی خدا کی حفاظت میں رہیں گے۔

۲۔ میقات آجائے تو دور کعت بہ نیتِ احرام پڑھے اور حج یا عمرہ جو بھی ادا کرنا ہے بعد سلام نیت میں اس کا نام زبان سے لے اور لبیک کہے، قرآن میں کہے لبیک بالعمرۃ والحج اور تمتع میں لبیک بالمعرۃ اور افراد میں لبیک بالحج کہے۔

۳۔ احرام کی حالت میں جو امور ممنوع و مکروہ ہیں ان سے کلی اجتناب کرے ورنہ ان پر جو جرمانہ ہے ہر طرح دینا آئے گا اگرچہ قصداً ہوں سہواًیا جبراًیا سوتے ہیں۔

۴۔ جب مدعی میں پہنچے جہاں سے کعبۂ معظمہ نظر آئے صدق دل سے دعا کرے اور ذکرِ خدا اور رسول کرتا باب السلام تک پہنچے اور اس آستانۂ پاک کو بوسہ دے کر داخل ہو اور سب کاموں سے پہلے متوجہِ طواف ہو بشرطیکہ نماز فرض خواہ وتر یا سنت موکدہ کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو یا جماعت قائم نہ ہو۔

۵۔ شروع جماعت سے پہلے مرد اضطباع کرلے اور کعبہ کی طرف منہ کرکے حجرِ اسود کی داہنی جانب رکن یمانی کی طرف سنگِ اسود کے قریب یوں کھڑا ہو کہ تمام پتھر اپنے سیدھے ہاتھ کو رہے۔

۶۔ پھر طواف کی نیت کرکے کعبہ کو منہ کئے ہوئے اپنی دا ہنی جانب ذرا بڑھ کر سنگِ اسود کے مقابل ہو کر کانوں تک ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ ہتھیلیاں حجر کی طرف رہیں اور کہے بسم اللہ والحمد اللہ واللہ اکبر والصلوٰۃ والسلام علٰی رسول اللہ۔

۷۔ میسر ہو سکے تو حجرِ اسود کو بوسیہ دے اور ہجوم کے سبب نا ہو سکے تو ہاتھو ں سے اس کی طرف اشارہ کرکے اسے بوسہ دے اور اللھم ایمانا بک واتبا عا لسنۃ نبیک صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہوئے کعبہ تک بڑھے۔

۸۔ جب حجرِ اسود سے گزر جائے تو خانہ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر لے کر مرورمل کرتا ہو بڑھے۔

۹۔ جب ملتزم، پھر رکنِ عراقی پھر میزابِ رحمت پھر رکنِ شامی کے سامنے آئے تو خاص خاص دعائیں جو ان موقعوںکے لیے آئی ہیں وہ پڑھے اور افضل یہ ہے کہ یہاں اور تمام موقعوں پر اپنے لیے دعا کے بدلے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔

۱۰۔ جب رکن یمانی کے پاس آئے تو اسے تبرکاً چھوئے اور چاہے تو بوسہ بھی دے یہاں ہاتھوں سے اشارہ کرکے ہاتھ چومنا نہیں۔

۱۱۔ رکن یمانی سے بڑھ کر مستجاب پر آئے تو دعا کرے یا پھر درود شریف پڑھے کہ عظیم برکتیں حاصل ہوں گی۔

۱۲۔ دعا و درود چلاّ چلاّ کر نہ پڑھے بلکہ آہستہ آہستہ اس قدر کہ اپنے کان تک آواز آئے۔

۱۳۔ اب کہ دوبارہ آدمی حجرا سود تک آیا یہ ایک پھیرا ہوا، یوں ہی سا ت پھیرے کرے مگر رمل سے پہلے تین پھیروں میں ہے اور باقی چار میں معمولی چال سے چلے۔

۱۴۔ جب ساتوں پھیرے ہو جائیں تو پھر حجرِا اسود کو بوسہ دے اور استلام کرے۔

۱۵۔ بعد طواف مقامِ ابراہیم پر دورکعت کہ واجب ہیں پڑھے اور وقتِ کراہت ہو تو یہ وقت نکل جانے پر پڑھے اور دعا مانگے۔

۱۶۔ پھر ملتزم پر جائے اور قریبِ اسود اس سے لپٹے۔

۱۷۔ پھر زم زم پر آئے اور کعبہ کو منہ کرکے تین سانسوں میں جتنا پیا جائے خوب پیٹ بھر کر پئے اور بدن پر ڈالے اور پتے وقت دعا کرے کہ قبول ہے۔

۱۸۔ پھر ابھی ورنہ آرام لے کر صفا و مروہ میں سعی کے لیے حجرِ اسود پر آئے اور اسی طرح بوسہ وغیرہ دے کر بابِ صفا سے جانبِ صفا روانہ ہو اور ذکر و دعا میں مشغول صفا کی سیڑھیوں پر اتنا چڑھے کہ کعبہ معظمہ نظر آئے اور کعبہ رخ ہو کر دیر تک تسبیح و تہلیل و دعا ودرود کرے۔

۱۹۔ پھر مروہ کو چلے اور جب پہلا میل آئے مرد دوڑنا شروع کر دے یہاں تک کہ دوسرے میل سے نکل جائے پھر آہستہ ہو لے اور مروہ پر پہنچے اور روبۂ کعبہ دعا وغیرہ کرے۔

۲۰۔ پھر صفا کو جائے اور آئے یہاں تک کہ ساتواں پھیر! مروہ پر ختم کرے۔

واضح ہو کہ عمرہ صرف انہیں افعال طواف وسعی کا نام ہے قارن اور مفرد جس نے افراد کیا تھا لبیک کہتے ہوئے احرام کے ساتھ مکہ میں ٹھہریں گے مگر جس نے تمتع کیا تھا اور نرا عمرہ کرنے والا شروع طواف سے سنگِ اسود کا بوسہ لیتے ہی لبیک چھوڑ دیں اور طواف وسعی کے بعد حلق یا تقصیر کرائیں اور احرام سے باہر آئیں اور منیٰ جانے کے لیے یہ سب مکہ معظمہ میں آٹھویں تاریخ کا انتظار کریں۔

۲۱۔ یوم الترویہ کہ آٹھ تاریخ کا نام ہے جس نے احرام نہ باندھا ہو باندھ لے اور جب آفتاب نکل آئے منیٰ کو چلے اور ہو سکے تو پیادہ کہ آرام سے بھی رہے گا اور ثواب عظیم بھی پائے گا۔

۲۲۔ منیٰ میں رات کو ٹھہرے، آج ظہر سے نویں کی صبح تک پانچ نمازیں مسجد خیف میں پڑھے اور شبِ عرفہ منیٰ میں ہو سکے تو ذکر و عبادت میں جاگ کر گزارے۔

۲۳۔ صبح مستحب وقت میں نماز پڑھ کر آفتاب چمکنے پر عرفات کو چلے، راستے بھر ذکرو درود میں بسر کرے، لبیک کی کثرت کرے۔

۲۴۔ عرفات میں جبلِ رحمت کے پاس یا جہاں جگہ ملے راستے سے بچ کراترے اور دوپہر تک زیاوہ وقت اللہ کے حضور زاری اور تصدق وخیرات اور ذکر و لبیک میں مشغول رہے۔

۲۵۔ دوپہر ڈھلتے ہی مسجد نمرہ جائے اور نماز پڑھتے ہی موقف کو روانہ ہو جائے وہ خاص نزولِ رحمت کی جگہ ہے یہاں کھڑے بیٹھے جیسے بن پڑے ذکر و دعا کرے اپنے ربِ کریم کی طرف متوجہ ہو اور لرزتے کانپتے ڈرتے امید کرتے دستِ دعا آسمان کی طرف سرے اونچے پھیلائے ، تکبیر و تہلیل لبیک حمد، ذکر ، دعا، توبہ میں ڈوب جائے یہ وقوف ہی حج کی جان اور اس کا بڑا رکن ہے۔

۲۶۔ جب غروبِ آفتاب کا یقین ہو جائے فوراًمزدلفہ چلے راستے بھر ذکر و درود و دعا ولبیک میں مصروف رہے اور وہاں پہنچ کر جہاں جگہ ملے اترے۔

۲۷۔ یہاں پہنچ کر عشاء کے وقت میں مغرب حتی الامکان امام کے ساتھ پڑھے۔ اس کا سلام ہوتے ہی معاً عشاء کے فرض پڑھے اس کے بعد مغرب و عشاء کی سنتیں اور وتر پڑھے۔

۲۸۔ باقی رات ذکر و لبیک و درود دعا میں گزارے اور نہ ہو سکے تو باطہارت سو رہے اور صبح چمکنے سے پہلے ضروریات سے فارغ ہو کر نمازِ صبح اول وقت میں ادا کرے۔

۲۹۔ جب طلوع آفتاب میں دو رکعت پڑھنے کا وقت رہ جائے منیٰ کو چلے اور یہاں سے سات چھوٹی چھوٹی کنکریاں پاک جگہ سے اٹھا کر تین بار دھو کر اپنے ساتھ لے لے بلکہ تینوں دنوں کے لیے لے لے تو اور اچھا ہے۔

۳۰۔ جب منیٰ پہنچے سب کاموں سے پہلے جمرۂ عقبہ کو جائے، رمی سے فارغ ہو اور فوراً واپس آجائے۔

۳۱۔ اب قربانی میں مشغول ہو جائے، یہ حج کا شکرانہ ہے اور یہاں بھی جانور کی عمر و اعضا میں وہی شرطیں ہیں جو عید کی قربانی ہیں۔

۳۲۔ بعد قربانی روبقبلہ بیٹھ کر مرد حلق کریں اور عورتیں ایک پورا برابر بال کتروائیں۔

۳۳۔ بال دفن کر دے اور یہاں حلق یا تقصیرسے پہلے نہ خاخن کتروانا ہے نہ خط بنوانا۔

۳۴۔ اب عورت سے متعلق چند باتوں کے علاوہ جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہو گیا۔

۳۵۔ افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ فرض طواف کے لیے مکہ معظمہ جائے اور بدستور مذکور طواف کرے مگر اس طواف میں اضطباع نہیں۔

۳۶۔ جودسویں کو نہ جائے وہ گیارہویں کو یا بارہویں کو کر لے اس کے بعد بلاعذر تاخیر گناہ ہے جرمانہ میں قربانی کرنی ہوگی، ہاں مثلاً عورت کو حیض آگیا تو ہو اس کے ختم ہونے کے بعد کرے۔

۳۷۔ بہرحال بعد طواف دو رکعتیں ضرور پڑھیں ، حج پورا ہوگیا کہ اس کا دوسرا رکن یہ طواف ہے۔

۳۸۔ دسویں، گیارہویںبارہویں راتیں منیٰ ہی میں بسر کرنا سنت ہے۔

۳۹۔ گیارہویں تاریخ بعد نماز ظہر پھر رمی کو چلے اور رومی جمرۂ اولیٰ سے شروع کرے پھر جمرۂ وسطیٰ پر جائے ، رمی کے بعد کچھ آگے بڑھ کر حضورِ قلب سے دعا واستغار کرے پھر جمرۂ عقبہ پر مگر یہاں رمی کرکے نہ ٹھہرے فوراً پلٹ آئے ، پلٹنے میں دعا کرے۔

۴۰۔ بعینہٖ اسی طرح بارہویں تاریخ تینوں جمرے بعد زوال رمی کرے اور بارہویں کو رمی کرکے غروبِ آفتاب سے پہلے مکہ معظمہ کو روانہ ہو جائے اور جب عزمِ رخصت ہو طوافِ وداع بجالائے مگر اس میں نہ رمل ہے نہ سعی نہ اضطباع ، پھر دو رکعت مقامِ ابراہیم پر پڑھے پھر زمزم پر آئے اور پانی پئے اور بدن پر ڈالے اور دروازۂ کعبہ پر کھڑے ہو کر بوسہ دے اور اُلٹے پاؤں مسجد شریف سے باہر آجائے۔

سر زمین عرب کا یہ وہ مبارک قطعہ ہے جس کی بابت کہا گیا کہ ؂
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس کر دہ می آید جنید وبایزید اینجا
اس لیے ’’با ادب با نصیب‘‘ کا سر اپا بن کر حاضریٔ درِ والا کو مقصود بناؤ۔
۱۔ حاضری میں خاص زیارت اقدس کی نیت کرو اور راستہ بھر درود و ذکر شریف میں ڈوب جاؤ۔
۲۔ جب حرم مدینہ نظر آئے، روتے سر جھکاتے آنکھیں نیچی کئے ہوئے اور ہو سکے تو پیادہ ننگے پاؤں چلو اور جب شہر اقدس تک پہنچو تو جلال و جمال محبوب کے تصور میں غرق ہو جاؤ۔
۳۔ جب قبہّ انور پر نظر پڑے، درود سلام کی کثرت کرو۔
۴۔ حاضریٔ مسجد سے پہلے تمام ضروریات سے جن کا لگاؤ دل بٹنے کا باعث ہو نہایت جلد فارغ ہو کر وضو اور مسواک کرو اور غسل بہتر، سفیدو پاکیزہ کپڑے پہنو اور نئے بہتر سرمہ اور خوشبو لگاؤ اور مشک افضل ۔
۵۔ اب فوراً آستانۂ اقدس کی طرف نہایت خشو ع و خضوع سے متوجہ ہو اوردررِ مسجد پر حاضر ہو کر صلوٰۃ و سلام عرض کرکے تھوڑا ٹھہرو جیسے سرکار سے اجازت مانگتے ہو۔
۶۔ بسم اللہ کہہ کر سیدھا پاؤں پہلے رکھ کر ہمہ تن ادب ہو کر داخل ہو، آنکھوں ، کانوں، زبان ہاتھ ، پاؤں ، دل سب خیالِ غیر سے پاک کرو اور سرکار ہی کی طرف لو لگائے بڑھو۔
۷۔ ہر گز ، ہر گز مسجدِ اقدس میں کوئی حرف چلاّ کر نہ نکلے۔
۸۔ یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سچی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے، ان کی اور تمام انبیائے علیہم الصلوٰۃ والسلام کی موت صرف وعدہِ خدا کی تصدیق کو ایک آن کے لیے تھی ۔ ان کا انتقال صرف نظرِ عوام سے چھپ جانا۔
۹۔ اب اگر جماعت قائم ہو شریک ہو جاؤ کہ اس میں تحیۃ المسجد بھی ادا ہو جائے گی ورنہ اگر غلبۂ شوق مہلت دے اور وقتِ کراہت نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجد اور شکر انۂ حاضری دربار محراب نبی میں ورنہ جہاں تک ہو سکے اس کے نزدیک ادا کرو۔
۱۰۔ ادبِ کمال میں ڈوبے ہوئے لرزتے کانپتے گناہوں کی ندامت سے پسینہ پسینہ ہوئے عفو و کرم کی امید رکھتے ہوئے مواجہۂ عالیہ میں حاضر ہو، حضور کی نگاہ بیکس پناہ تمہاری طرف ہوگی اور یہ بات دونوں جہاں میں تمہارے لیے کافی ہے والحمد للہ۔
۱۱۔ اب بکمال ادب جالی مبارک سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے قبلہ کو پیٹھ اور مزار انور کو منہ کرکے نماز کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہو، اب کہ دل کی طرح تمہارا منہ بھی اس پاک جالی کی طرف ہے نہایت ادب و قار کے ساتھ معتدل آواز سے مجراو تسلیم بجالاؤ اور جہاں تک زبان یاری دے صلوٰۃ وسلام کی کثرت کرو اور عرض کرو۔
السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ برکاتہ، السلام علیک یارسول اللہ السلام علیک یا خیر خلق اللہ، السلام علیک یا شفیع المذ نبین، السلام علیک وعلٰی اٰلک واصحٰبک وامتک اجمعینo
۱۲۔ حضور سے اپنے لیے، اپنے ماں باپ، پیراستاد، اولاد، عزیزوں، دوستوں اور سب مسلمانوں کے لیے شفاعت مانگو اور بار بار عرض کرو۔ اسئلک الشفا عۃ یا رسول اللہ o
۱۳۔ پھر اگر کسی نے عرضِ سلام کی وصیت کی ہو، بجالاؤ۔ شرعاً اس کا حکم ہے۔
۱۴۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ یعنی مشرق کی طرف ہاتھ بھر ہٹ کر حضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے چہرئہ نورانی کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرو السلام علیک یاخلفۃ رسول اللہ السلام علیک یاصاحب رسول اللہ فی الغار ورحمۃ اللہ وبرکاتہo
۱۵۔ پھر اتنا ہی اور ہٹ کر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے روبر کھڑے ہو کر عرض کرو السلام علیک یا امیرالمو منین السلام علیک یامتمہ الا ربعین السلام علیک یاعز الاسلام والمسلمین ورحمۃ اللہ وبرکاتہo
۱۶۔ پھر بالشت بھر کر مغرب کی طرف پلٹو اور دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر عرض کرو۔ السلام علیکما یا خلیفتی رسول اللہo السلام علیکما یا وزیری رسول اللہoالسلام علیکما یا ضحبیعی رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اسلکما الشفاعۃ عند رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیکما وبارک وسلمo
۱۷۔ یہ سب حاضریاں محل اجابت ہے، دعا میں کوشش کرو، دعائے جامع کرو ،درود پر قناعت بہتر۔
۱۸۔ پھر منبر اطہر کے قریب پھر روضۂ جنت میں آکر دو رکعت نفل جب کہ وقت مکروہ نہ ہو پڑھ کر دعا کرو، یونہی مسجدِ قدیم کے ہر ستون کے پاس نماز پڑھو اور دعا مانگو۔
۱۹۔ جب تک مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہو ۔ایک سانس بیکار نہ جانے دو، ضروریات کے سوا اکثر اوقات مسجد شریف میں باطہارت حاضر رہو، نماز وتلاوت ، درود میں وقت گزارو۔ دنیا کی بات کسی مسجد میں نہ کرنی چاہیے نہ کہ یہاں ہمیشہ ہر مسجد میں جاتے نیت اعتکاف کر لو۔
۲۰۔ یہاں ہر نیکی ایک کی پچاس ہزار لکھی جاتی ہے لہٰذا عبادت میں زیادہ کوشش کرو۔ کھانے پینے میں کمی ضرور کرو اور مدینہ طیبہ میں روزہ نصیب ہو جائے خصوصاً گرمی میں تو کیا کہنا کہ اس پر وعدۂ شفاعت ہے۔
۲۱۔ روضۂ انور پر نظر بھی عبادت ہے تو ادب سے اس کی کثرت کرو اور اس شہر میں یا شہر سے باہر جہاں کہیں گنبد مبارک پر نظر پڑے فوراً دست بستہ ادھر منہ کرکے صلوٰۃ وسلام عرض کرو، بغیر اس کے ہر گز ہرگز روکہ خلافِ ادب ہے۔
۲۲۔ قرآنِ مجید کا کم سے کم ایک ختم یہاں اور حطیم کعبۂ معظمہ میں کر لو۔
۲۳۔ پنجگانہ یا کم از کم صبح شام مواجہہ شریف میں عرض سلا م کے لیے حاضری دو۔
۲۴۔ ترکِ جماعت بلا عذر ہر جگہ گناہ ہے اور کئی بار ہو تو سخت حرام و گناہ کبیر ہ اور یہاں تو گناہ کے علاوہ کیسی سخت محرومی ہے والعیاذ با للہ تعالیٰ، صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی میری مسجد میں چالیس نمازیں فوت نہ ہوں اس کے لیے دوزخ و نفاق سے آزادیاں لکھی جائیں گی لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ امام صحیح العقید ہ سنی اور دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام رکھنے والا ہونا چاہیے۔
۲۵۔ قبر کریم کو ہر گز پیٹھ نہ کرو اور حتیٰ الا مکان نماز میں بھی ایسی جگہ کھڑے ہو کہ پیٹھ کرنی نہ پڑے ۔
۲۶۔ روضۂ انور کا نہ طواف کرو، نہ سجدہ، نہ اتنا جھکناکہ رکوع کے برابر ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔
۲۷۔ وقت رخصت مزار پر انور پر حاضری دو اور مواجہہ شریف میں حضور سے بار بار اس نعمت کی عطا کا سوا ل کرو اور تمام آدابِ رخصت بجا لاؤ اور سچے دل سے دعا کرو کہ الٰہی ایمان و سنت پر مدینہ طیبہ میں مرنا اور بقیع پاک میں دفن ہونا نصیب ہو۔

حرمین شریفین میں خواتین نماز میں مردوں کی طرف مسجد میں پہنچتی ہیں اگرچہ وہاں عورتوں کے لئے دروازہ بھی مخصوص ہے اور نماز کی جگہ بھی الگ متعین ہے مگر خاص حج کے دنوں میں حاجیوں کی بے انتہا کثرت کی وجہ سے وہ اپنی جگہ نہیں پہنچ پاتیں اس لئے مردوں ہی کے درمیان کھڑی ہو کر نماز شروع کر دیتی ہیں ایسا کرنا جائز نہیں۔

یاد رہے کہ جس طرح خواتین کو اپنے وطن میں گھروں میں نماز پڑھنا افضل ہے اسی طرح مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بھی ان کو نماز گھر میں بغیر جماعت کے پڑھنا افضل ہے اور مسجد حرام میں اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نماز کا جو اجر مردوں کو ملتا ہے، یہی ثواب عورتوں کو گھروں میں نماز پڑھنے سے مل جاتا ہے۔ اس لئے وہاں کے قیام کے دوران عورتوں کو اپنی قیام گاہ ہی میں نماز پڑھنا چاہئے، البتہ جب بیت اﷲ کی زیارت یا طواف کرنے کے لئے مسجد حرام میں اور سلام کی غرض سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوں اور نماز کا وقت ہو جائے تو عورتوں کی مقررہ جگہ پر نماز باجماعت پڑھ لیں۔

لیکن یاد رہے کہ اگر کوئی عورت اتفاقی طور پر عین نماز کے وقت مردوں کی صفوں میں پھنس جائے اور نکلنا مشکل ہو تو اس وقت اس کو بغیر نماز کے جہاں بھی ہو خاموش بیٹھ جانا چاہئے اور جماعت میں ہرگز شامل نہ ہو کیونکہ مردوں کے برابر میں جماعت میں شامل ہونے سے دائیں بائیں کے ایک ایک مرد کی اور پیچھے کے ایک مرد کی نماز فاسد ہو جاتی ہے لہٰذا جب امام نماز سے فارغ ہو جائے تو تنہا کسی مناسب جگہ پر حتی الامکان مردوں سے الگ ہو کر نماز ادا کر لے۔

اگر دوران طواف اتفاقاً نماز کا وقت ہو جائے تو اذان ہوتے ہی جلد ہی طواف پورا کر کے، عورتوں کی مقررہ جگہ پہنچ کر جماعت سے نماز پڑھ لیں اگر طواف ختم کر کے مناسب جگہ پہنچنا ممکن نہ ہو تو طواف کو درمیان میں چھوڑ دیں اور نماز کے بعد اسی جگہ سے طواف شروع کر کے مکمل کر لیں جس جگہ سے چھوڑا تھا۔

متفق علیہ حدیث مبارکہ ہے:

عن ابی هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم من حج هذا البيت، فلم يرفت، ولم يفسق، رجع کما ولدته امه.

“حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا اور وہ نہ تو عورت کے قریب گیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا تو (تمام گناہوں سے پاک ہو کر) اس طرح واپس لوٹا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا”۔

  1. بخاری، الصحيح، 2 : 645، رقم : 1723، دار ابن کثير اليمامة، بيروت.

  2. مسلم، الصحيح، 2 : 983، رقم : 1350، دار احياء التراث العربی، بيروت.

اسی طرح متعدد احادیث مبارکہ ہیں جن میں اس سے ملتا جلتا مضمون بیان ہے۔

شارحین حدیث نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔

  1. حج کرنے سے صرف گناہ صغیرہ معاف ہوتے ہیں۔
  2. صغیرہ، کبیرہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں جو حقوق اللہ میں آتے ہیں، لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے ہیں۔
  3. تیسری رائے یہ ملتی ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد صغیرہ وکبیرہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

بہرحال ہمیں اس بحث ومباحثہ میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس کو بھی حج وعمرہ کی سعادت نصیب ہو اسے صدق دل سے اور خلوص نیت کے ساتھ اس عمل کو اچھی طرح سرانجام دینا چاہیے۔ باقی معاملہ اللہ تعالی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اس کی مرضی جتنا اجر دے۔ یہ تو ایک عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ ایک شخص گنہگار وسیاہکار ہو، وہ صدق دل سے اللہ تعالی سے توبہ کرے تو اللہ تعالی توبہ قبول فرمانے والا ہے، اس کو معاف فرمائے گا۔ اللہ تعالی تو نیتوں کے بھید جانتا ہے۔ صدق دل اور خلوص نیت ہو تو بعید نہیں سب کے سب گناہ معاف ہو جائیں۔ اگر کوئی ہو ہی ظلم کرنے والا ڈاکو، قاتل اور دھوکہ باز اور وہ حج بھی اسی نیت سے کرے کہ لوگ اس کو نیک سمجھیں اور اس کے گھیرے میں آتے رہیں تو ایسے حج وعمرہ، نماز، روزہ وغیرہ اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہونگے۔