Fasting روزہ

قرآنِ حکیم میں روزہ کی فرضیت کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔

يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔

’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

 حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا 

’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا 

آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ اعمال صالحہ کا ثواب صدقِ نیت اور اخلاص کی وجہ سے دس گنا سے بڑھ کر سات سو گنا تک بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن روزہ کا ثواب بے حد اور بے اندازہ ہے۔ یہ کسی ناپ تول اور حساب کتاب کا محتاج نہیں، اس کی مقدار اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ روزے کی اس قدر فضیلت کے درج ذیل اسباب ہیں 

پہلا سبب :  روزہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جبکہ دوسری عبادتوں کا یہ حال نہیں ہے کیونکہ ان کا حال لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ خالص اﷲ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔ فانّا لِيْ سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔

دوسرا سبب :  روزے میں نفس کشی، مشقت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں بھوک، پیاس اور دیگر خواہشاتِ نفسانی پر صبر کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری عبادتوں میں اس قدر مشقت اور نفس کشی نہیں ہے۔

تیسرا سبب :  روزہ میں ریاکاری کا عمل دخل نہیں ہوتا جبکہ دوسری ظاہری عبادات مثلاً نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ریاکاری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔

چوتھا سبب :  کھانے پینے سے استغناء اﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ روزہ دار اگرچہ اﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے متشابہ تو نہیں ہو سکتا لیکن وہ ایک لحاظ سے اپنے اندر یہ خلق پیدا کر کے مقرب الٰہی بن جاتا ہے۔

پانچواں سبب :  روزہ کے ثواب کا علم اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں جبکہ باقی عبادات کے ثواب کو رب تعالیٰ نے مخلوق پر ظاہر کر دیا ہے۔

چھٹا سبب :  روزہ ایسی عبادت ہے جسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا حتی کہ فرشتے بھی معلوم نہیں کر سکتے۔

ساتواں سبب :  روزہ کی اضافت اﷲ ل کی طرف شرف اور عظمت کے لئے ہے جیسا کہ بیت اﷲ کی اضافت محض تعظیم و شرف کے باعث ہے ورنہ سارے گھر اﷲ کے ہیں۔

آٹھواں سبب :  روزہ دار اپنے اندر ملائکہ کی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے وہ اﷲ کو محبوب ہے۔

مضان المبارک زندگی کی زرد پیاسی ریت پر اس بارش کا نام ہے جو ٹوٹ کر برستی ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کے آخری عشرے میں قرآن حکیم نازل ہوا۔ شب قدر کا نزول رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔

رمضان المبارک گناہوں کے صحرائے اعظم میں موسلا دھار بارش‘ بیکراں رحمت کے ظہور‘ گناہوں کی گرد دْھلنے کا نام‘ گناہوں کی جلتی دھوپ میں مغفرتِ الٰہی کا سائبان‘ جلتے ٹیلوں اور تپتے دشت میں موسمِ گل اور مغفرتِ یزداں کے جوش مارتے سمندر کا نام ہے۔ رمضان المبارک زندگی کی زرد پیاسی ریت پر اس بارش کا نام ہے جو ٹوٹ کر برستی ہے۔

یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کے آخری عشرے میں قرآن حکیم نازل ہوا۔ شب قدر کا نزول رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں تراویح پڑھی جاتی ہیں۔ اس طرح مکمل قرآن حکیم پڑھنے اور سننے کا موقع ملتا ہے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب حجة البلالغہ میں لکھتے ہیں کہ روزہ حیوانی جذبات کو مغلوب کرتا ہے۔

صوم کا لغوی معنی ہے ”کام سے رک جانا“ –کسی جکہ پر ٹھہر جانا– کھانے پینے ‘ گفتگو کرنے اور چلنے سے رک جانے کو بھی صوم کہتے ہیں۔

اسلام میں روزے ماہ شعبان ۲ ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئے اور ان کے لئے رمضان کا مہینہ مخصوص کیا گیا۔ غزوہ بدر رمضان المبارک میں ہی سرہوا۔اسلام میں روزہ ان تمام عاقل بالغ مردوں اور عورتوں پر فرض ہے جو جسمانی طور پر اس کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بچوں پر روزے فرض نہیں لیکن اہل اسلام میں بہتر تربیت کے لئے ان بچوں سے روزے رکھوائے جاتے ہیں جو اس کی طاقت رکھتے ہیں۔

حدیث میں رمضان کو ”شہر الصبر“ (صبر کا مہینہ) اور ”شہر الموٴ اسات“ (ہمدردی کا مہینہ) کہا گیا ہے۔ روزہ دراصل ایک روحانی تربیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کو روحانی ‘ اخلاقی اور جسمانی تربیت کا ذریعہ بنا کر اجتماعی اور معاشرتی اہمیتوں کا حامل قرار دیا ہے۔ سورة بقرہ کی آیت نمبر 23 میں ارشادِ ربانی ہے: ”مسلمانو! تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پرفرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ حاصل کرو۔


جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں نیکی کا بدلہ دس سے بڑھا کر سات سو گنا کر دیا جاتا ہے اگر نیکی میں خشوع کا جذبہ ہو۔ حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کے آخری دن آنحضرت ﷺ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوے فرمایا:
” اے لوگو! ایک عظمت والا اور برکت والا مہینہ تم پر سایہ فگن ہے‘ اس مہینے میں ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے۔

اللہ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس مہینے میں قیام اللیل نفلی ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق زیادہ ہوجاتاہے۔ جس نے روزے دار کا روزہ افطار کرایا اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اسے جہنم سے نجات مل جاتی ہے۔ اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے‘ دوسرا عشرہ مغفرت کا اورتیسرا دوزخ کی آگ سے نجات کا۔

جس نے اپنے خادم اور نوکر سے اس مہینے میں کام کم لیا‘ اللہ اس کے گناہ معاف کر دے گا اور اسے دوزخ کی آگ سے بچا لے گا۔“
روزے کی فضیلت کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اُسے بد زبانی، کج روی اور جہالت سے باز رہنا چاہئے۔ ہاں اگر کوئی شخص روزے دار کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے کہہ دینا چاہئے میاں! میں تو روزے سے ہوں۔

ایک اور مقام پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جس طرح میدان جنگ میں دفاع کے لئے ڈھال ہوتی ہے۔ روزے تمہارے لئے اسی طرح آگ کے لئے ڈھال ہیں جب تک کہ انسان اس ڈھال (روزہ ) کو جھوٹ اور غیبت سے توڑ نہ ڈالے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: کتنے روزے دار ہیں جن کے حصے میں ‘ ان کے روزے سے صرف بھوک آتی ہے اور کتنے شب بیدار ہیں جنہیں بیداری کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: تم پر روزہ رکھنا فرض ہے کہ روزے جیسی عبادت کی کوئی مثال نہیں۔ ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے ماہ رمضان کا ایک روزہ بھی بغیر کسی (شرعی) عذر یا بیماری کے ترک کیا تو وہ قیامت تک بھی لگاتار روزے رکھتا رہے تو اس روزے کی قضا ادا نہیں ہو سکتی۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: روزے دار کے لئے دو خوشی کے مواقع ہیں۔ پہلا موقع تو وہ ہے جب ہر شام وہ روزہ افطارکرتا ہے تو اسے ایک خاص روحانی خوشی ہوتی ہے اور دوسرا موقع وہ ہے کہ جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے بہت خوش ہوگا۔

آپ ﷺ کا ارشادِ عالیہ ہے: ”نمازی کو جنت میں داخل ہونے کے لئے ”باب الصلوٰة“ سے بلایا جائے گا۔ جو مجاہد ہے اسے باب الجہاد سے ندا دی جائے گی۔ جو صاحب الصدقہ ہے اسے ”باب الصدقہ “ سے جنت میں داخلے کی دعوت دی جائے گی۔“حدیث مبارک میں بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزے دار جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اس دروازے سے داخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔

فرشتے پکاریں گے روزے دار کہاں ہیں ؟ روزے دار اس آواز کو سن کر جنت میں داخل ہونے کے لئے اس درواز ے کی طرف بڑھیں گے۔ جب روز ے د ار جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا۔ پھر کو ئی شخص اس دروازے سے داخل نہ ہو سکے گا۔“ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے اللہ کو رازی کرنے کیلئے ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک روزے کی برکت سے اسکے چہرے کو ستر برس کی مدت تک آگ سے دور کر دیتا ہے۔


حضرت ابو ہریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:” جس شخص نے ایمان اور ایقان کی دولت سے سرشار ہو کر رمضان کے روزے پورے کر لئے اس کے پچھلے گناہ سب معاف ہو جائیں گے۔“ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کو ایمان اور احتساب سے پورا کر لیا وہ اپنے گناہوں سے اس طرح بری ہوتا ہے جیسے اس کی ماں نے آج ہی اسے جنا ہے۔
جب آنحضرت ﷺ روزہ افطار کرتے تو یہ پڑھتے۔

ترجمہ: اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر روزہ افطار کرتا ہوں۔رمضان المبارک میں افطاری کی بڑی اہمیت ہے۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں:حضو ر اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
”جس نے کسی روز ے دار کی افطاری کا انتظام کیا تو یہ افطاری اس کے گناہوں کے لئے بخشش اور اسے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ ہوگی اور جس کی افطاری کروائی گئی اور جس نے افطاری کروائی ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔

صحابہ نے گزارش کی‘ اے اللہ کے رسول : ہم سب کو تو کسی کی افطاری کا اہتمام کرنے کی توفیق نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: خدا یہ ثواب اس شخص کو بھی برابر عطا کرتا ہے جو ایک کھجور‘ پانی کے ایک گھونٹ یا دودھ کی ایک چلی سے کسی کا روزہ افطار کروا دے۔“ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جو شخص کسی روزے دار کو جی بھر کر پانی پلا دے(یا پر تکلف افطاری کا اہتمام کرے) تو خدا تعالی اس کو میرے حوض کوثر سے اس طرح سیراب کریں گے کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس محسوس نہ ہوگی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ” جب روزہ افطار کرنا چاہو تو کھجور سے افطار کرو کیونکہ یہ باعثِ برکت ہے۔ اگر کھجور میسر نہ آئے تو پانی سے چھوڑ لو ‘ یہ باعث طہارت ہے۔“
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (۱) امامِ عادل (۲) روزے دار کی، روزہ افطار کرنے کے وقت (۳) مظلوم کی دعا۔ اسے اللہ تعالیٰ روزِ قیامت بادلوں سے بھی اوپر اٹھائے گا اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا، خواہ کچھ عرصہ بعد ہی سہی۔

 ہر وہ چیز جو کھائی پی جاتی ہے۔ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تو پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا۔ اگر چہ پیک تھو ک دی ہو کہ اس کے باریک اجزاء ضرور حلق میں پہنچتے ہیں۔ یوں ہی شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو منہ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں۔ منہ میں رکھی اور تھوک نگل گیا روزہ جاتا رہا۔

درج ذیل باتیں روزے میں مکروہ ہیں

1۔ گوند چبانا یا کوئی اور چیز منہ میں ڈالے رکھنا۔

2۔ بلا ضرورت کسی چیز کا چکھنا، البتہ جس عورت کا خاوند سخت اور بد مزاج ہو اُسے زبان کی نوک سے سالن کا مزہ چکھ لینا جائز ہے۔

3۔ کلی یا ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنا۔

4۔ منہ میں بہت سا تھوک جمع کرکے نگلنا۔

5۔ غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، گالی گلوچ کرنا۔

6۔ بھوک یا پیاس کی بے قراری اور گھبراہٹ کو ظاہر کرنا۔

7۔ نہانے کی حاجت ہو تو غسل کو قصداً صبح صادق کے بعد تک مؤخر کرنا۔

8۔ صوم وصال کے روزے رکھنا اگرچہ دوہی دن کا ہو۔

روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ممکن ہو تو ایک رقبہ یعنی باندی یا غلام آزاد کرے اور یہ نہ کر سکے مثلاً اس کے پاس نہ لونڈی غلام ہے۔ نہ اتنا مال کہ خرید یا مال تو ہے مگر رقبہ میسر نہیں جیسا آج کل یہاں پاک و ہند میں تو پے درپے ساٹھ روزے رکھے۔ یہ بھی نہ کر سکے تو ساٹھ مساکین کو بھر بھر پیٹ دونوں وقت کھانا کھلائے۔

سحری کھانا نہ فرض ہے نہ سنت موکدہ کہ سحری نہ کھائے تو ترک سنت کا وبال اس پر پڑے بلکہ مستحب ہے اور باعث بر کت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تین چیزوں میں بڑی برکت ہے۔ جماعت اور ثرید اور سحری میں اور ایک حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔

روزہ دار کو کھاتے ہوئے دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے یاد نہ دلایا تو گناہگار ہو گا لیکن اگر جب روزہ دار بہت کمزور ہو تو اس سے نظر پھیرلے اور اس میں جوانی اور

بڑھاپے کو کوئی دخل نہیں بلکہ قوت و ضعف یعنی طاقت اور جسمانی کمزوری کا لحاظ ہے لہٰذا اگر جوان اس قدر کمزور ہو کہ یاد دلائے گا تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور

کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہوگا اور کھالے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کرے گا اور دیگر عبادتیں بھی بخوبی ادا کرے گا تو اس صورت میں یاد نہ

دلانے میں حرج نہیں بلکہ یاد نہ دلانا بہتر ہے اور اگر بوڑھا ہے مگر بدن میں قوت رکھتا ہے تو اب یاد دلانا واجب ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی شریعت میں انتہائی قدرو منزلت کا حامل ہے۔ یہ ماہ مقدس متعدد وجوہ کی بنا پر ہمارے لئے نہایت درجہ اہمیت وفرضیت رکھتا ہے ۔ لغوی اعتبار سے رمضان رمض سے مشتق ہے

ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن مجید (اول اول) اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کے درمیان تمیز کی نشانیاں ہیں تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اسے روزے رکھنا چاہئے البتہ جو بیمار ہو یا مسافر ہواسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کر واور اس کا شکر ادا کرو۔

رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی شریعت میں انتہائی قدرو منزلت کا حامل ہے۔ یہ ماہ مقدس متعدد وجوہ کی بنا پر ہمارے لئے نہایت درجہ اہمیت وفرضیت رکھتا ہے ۔ لغوی اعتبار سے رمضان رمض سے مشتق ہے جس کے معنی جھلسا دینے بھسم کر دینے یا گرم ریت پر جلادینے کے ہیں۔

شرعی اعتبار سے رمضان کے معنی یہ ہوں گے کہ اس میں اہل ایمان کے گناہوں اور معصیات کو رب تعالیٰ ایسے ختم کر دیتے ہیں جیسے آگ میں کسی چیز کو ڈالا جائے تو وہ اسے بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ماہ رمضان کی اازمائشی بھٹی میں ڈال کر کندن بنا دیتا ہے۔ گویا رمضان المبارک میں بندہٴ مومن مختلف عبادتیں وریاضتیں کر کے اپنے مالک حقیقی کو اس طرح راضی کر لیتا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر اپنے رب کی رضا حاصل کرتے ہوئے جنت کا حقدار ٹھہر جاتا ہے۔
رمضان المبارک کی اہم ترین فضیلت نزول قرآن کی بدولت ہے۔

روزہ کی فرضیت اس لئے عائد کی گئی تاکہ ہمارے اندر تقویٰ وپرہیز گاری پیدا ہوجائے۔ بغیر بھوکا پیاسا رہ کر اللہ تعالیٰ کی کئی مرضیات وحکمتیں حاصل ہوتی ہیں۔
(1) ۔ روزہ دار کو تقویٰ حاصل ہوجاتا ہے کہ روزہ دار گھر سب کچھ ہونے کے باجود قبل تنہائی کے عالم میں بھی محض رب کی رضا کی خاطر حلال وپاکیزہ چیزیں بھی اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے اور وہ کچھ نہیں کھاتا پیتا۔

حالانکہ اگر چپکے سے کچھ کھاپی لے تو اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا مگر اس کے دل میں یہ احساس موجود ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے روزے کو ضائع ہونے نہیں دیتا۔
(2)۔ اسی طرح روزہ دار کے دل میں دیگر مفلوک الحال مسلمان بھائیوں کی بھوک پیاس کا احساس پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو انواع واقسام کی نعمتیں میسر نہیں انہیں اپنے عیش وعشرت کے سامان میں شریک کر لیں اور ان کی غربت وافلاس کو اپنی بھوک پیاس کی شدت سے تقابل کرنے کی توفیق حاصل ہوسکتی ہے۔

اور ایک طرف اپنے اوپر کی گئی فیوض وبرکات پر اللہ کا شکرادا کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے تو دوسری طرف اللہ کے مجبور بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا خیال بھی نیکی پر آمادہ ہوتا ہے۔
(3)۔ روزے کے ذریعہ تربیت نفس بھی ہوتی ہے کہ اگر خدا نخواستہ انسان کسی ابتلاو آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو وہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے قابل رہے۔ ابتدائے اسلام کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کائنات اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے انتہائی نامسدعد حالات میں دین کی شمع فروزاں رکھی۔

نبی کریمﷺ کی مکی زندگی اور مدنی زندگی دونوں انتہائی نامسدعد حالات کا شکار رہی اور سیت کی کتابوں میں موجود ہے کہ آقانے زندگی بھر کبھی میدے کی نرم روٹی تناول نہیں فرمائی اسی طرح خلافت راشدہ کے دور میں بھی کم وبیش یہی صورتحال رہی تاہم جب فتوحات بڑھتی رہیں تو اہل اسلام بھی معاشی اعتبار سے مستحکم ہونے لگے۔ البتہ یہ پر مشقت زندگی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا نتیجہ تھاکہ اسلام چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔

لہٰذا روزے کی ایک حکمت یہ بھی ہے جو صرف ماہ رمضان میں فرض کئے گئے اسی لئے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ترجمہ”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔
عام طور پر لوگ زکوة صدقات خیرات اس ماہ مبارک میں بہت زیادہ کرتے ہیں اور اللہ کی رحمتوں کے حصول میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اگرچہ زکوة سال ہونے پر ہی دی جاتی ہے تاہم حصول ثواب کیلئے ماہ رمضان کا انتخاب کی جاتا ہے تاکہ ستر فرضوں بلکہ قرآن کے مطابق سات سوگنا تک بھی اللہ تعالیٰ اجروثواب عطا فرماتا ہے۔

اسی طرح اس ماہ رمبارک میں عام صدقات وخیرات کے علاوہ صدقة الفطر بھی دیا جاتا ہے جو روزہ میں ہونے والی کوتاہیوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مفلوک الحال مسلمانوں کی اشک شوئی کا ذریعہ بھی ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو صحیح معنوں میں رمضان المبارک کے مقدس نیکیوں کے موسم بہار سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہماری نماز،روزہ،تراویخ زکوة صدقات ،خیرات، عمر اعتکاف اور ذکروتلاوت جیسی عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں منظور مقبول فرماکر بخشش کاذریعہ بنائے۔

سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمر بھر یہ معمول رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی فرماتے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم رضی اللہ عنہلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

إِنَّا مَعْشَرَ الأنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُؤَخِّرَ سُحُوْرَنَا، وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَ.

 ابن حبان، الصحيح، 5 :  67، رقم :  1770

’’ہم گروہِ انبیاء علیہم السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم سحری تاخیر سے اور افطار جلدی سے کریں۔‘‘

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ.

 مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب فضل السحور وتأکيد استحبابه، 2 :  771، رقم :  1098

’’میری امت کے لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔‘‘

کوئی شخص سحری میں اتنی تاخیر کر بیٹھے کہ اذان شروع ہو جائے تو اس کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِذَا سَمِعَ أَحَدَکُمْ النِّدَاءَ، وَالْاِنَاءُ عَلَی يدِه فَلَايضَعْه حَتَّی يقْضِيَ حَاجَتَه مِنْه.

 1. ابو داود،السنن، کتاب الصوم، باب فی الرجل يسمع النداء، 2 :  292، رقم : 22350

.حاکم، المستدرک علی الصيحين، 1 :  323، رقم : 740

’’جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضروریات پوری کیے بغیر اسے نہ رکھے۔‘‘

مندرجہ بالا احادیث مبارکہ کی روشنی میں واضح ہوا کہ سحری میں تاخیر اور افطاری میں جلدی کرنا سنت ہے۔ سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ روحانی فیوض و برکات سے قطع نظر سحری دن میں روزے کی تقویت کا باعث بنتی ہے اور انسان بھوک پیاس کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمت کو تلقین فرمائی ہے کہ سحری ضرور کیا کرو خواہ پانی کا ایک گھونٹ، کھجور کا ایک ٹکڑا یا منقی کے چند دانے ہی کیوں نہ ہو۔

 طبرانی، مسند الشاميين، 1 :  32، رقم :  16

اسی طرح افطاری جلد کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس طرزِ افطاری سے یہود و نصاریٰ کی مخالفت مقصود ہے کیونکہ یہود و نصاریٰ روزہ تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔ ستاروں کے ظاہر ہونے تک انتظار کرتے ہیں جس سے نجوم پرستی کا شائبہ پیدا ہوتا ہے۔ جب تک امتِ مسلمہ افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی اس وقت تک سنت کی پابندی اور حدودِ شرع کی نگرانی کی وجہ سے خیریت اور بھلائی پر قائم رہے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

سفر، حمل، بچہ کا دودھ پلانا، مرض، بڑھاپا، خوف ہلاکت، اکراہ، نقصان عقل اور جہاد، یہ سب روزہ نہ نہ رکھنے کے لیے عذر ہیں کہ اگر ان وجوہ میں سے کسی وجہ سے کوئی روزہ نہ رکھے تو گناہگار نہیں

سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد کچھ بھی کھانا پینا جائز نہیں کیونکہ سحری کا وقت رات کے آخری نصف سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق سے چند لمحے قبل تک باقی رہتا ہے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ’’ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر آپ نماز کے لئے اٹھے، (راوی کہتے ہیں) میں نے ان سے دریافت کی :  اذان اور سحری میں کتنا وقفہ تھا (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان سے کتنی دیر قبل سحری کی تھی)؟ انہوں نے فرمایا :  پچاس آیات پڑھنے کے برابر۔

 بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب قدر کم بين السحور و صلاة الفجر، 2 : 678، رقم :  1821

جمھور فقھاء کے نزديک اگر صبح صادق ھونے ميں شک ھو تو کھا پي سکتے ھيں، ليکن جب صبح صادق کا يقين ھو جائے تو رک جانا ضروري ھے۔ ھاں اگر کوئي کھا رھا ھے اور اذانِ فجر شروع ھوگئی ھے تو بقدرِ ضرورت کھانے کی اجازت ھے۔

کھجور سے روزہ افطار کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ کھجور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ اس سے جسمانی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ روزے سے جسمانی توانائی میں کمی ہو جاتی ہے اور اس وقت ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جس کے کھانے سے جسم کی توانائی بحال ہو جائے۔ اس صورت میں کھجور توانائی اور شکر کی کمی کو پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کھجور کا تذکرہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر مختلف حوالوں سے فرمایا ہے۔ اسی طرح احادیث میں بھی کھجور کی افادیت، غذائی اہمیت اور طبی فوائد بیان کئے گئے ہیں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مغرب) کی نماز سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ اگر تر کھجوریں بروقت میسر نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں (چھوہاروں) سے افطار فرماتے تھے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیتے تھے۔

 ترمذی، السنن، ابواب الصوم، باب ما جاء ما يستحب عليه الإفطار، 2 :  73، رقم :  696

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو اگر سائنسی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم کھجور سے افطاری کرتے ہیں تو اس کی مٹھاس منہ کی لعاب دار جھلی میں فوری جذب ہو کر گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے جس سے جسم میں حرارت اور توانائی بحال ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر تلی ہوئی یا مرغن چٹخارے دار چیزیں استعمال کی جائیں تو اس سے معدے میں حدت اور کثرتِ تیزابیت کے باعث سینے کی جلن اور بار بار پیاس لگتی ہے۔ جس سے Digestive Enzymes تحلیل ہو جاتے ہیں جو معدے کی دیواروں کو کمزور کرتے ہیں اور تبخیر کا سبب بنتے ہیں جبکہ کھجور سے افطاری کرنے کی صورت میں نہ تو معدے پر بوجھ پڑتا ہے اور نہ ہی معدے میں Hydrochlooricacid کی زیادتی ہو کر تبخیر کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں کھجور میں بے شمار طبی فوائد ہیں مثلًا بلغم اور سردی کے اثر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ ضعفِ دماغ رفع کرتی اور نسیان کو دور کرتی ہے۔ قلب کو تقویت و فرحت بخشتی اور بدن میں خون کی کمی یعنی anemia کو دور کرتی ہے۔ گردوں کو قوت دیتی، امراض تنفس میں بالعموم اور دمہ میں مفید و مؤثر ہے۔

عربوں میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ سال میں جتنے دن ہوتے ہیں اتنے ہی کھجور کے استعمال اور فوائد ہیں۔

وزہ چھوڑنے کے لیے محض وہم کافی نہیں بلکہ ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے اور غالب گمان کی تین صورتیں ہیں:
(۱) اس کی ظاہری نشانی پائی جاتی ہے۔
(۲) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے۔
(۳) کسی مسلمان ، تجربہ کار طبیب و معالج نے جو کہ فسق و فجور میں مبتلا نہ ہو۔ کہہ دیا ہو کہ روزہ رکھنے میں بیماری بڑھ جانے وغیرہ کا خطرہ اندیشہ ہے۔
اور اگر نہ کوئی علامت ہو، نہ تجربہ، نہ اس قسم کے طبیب نے اسے بتایا بلکہ کسی کافر یا فاسق طبیب و ڈاکٹر کے کہنے سے افطار کر لیا یعنی روزہ توڑد یا تو کفارہ لازم آئے گا (ردالمحتار) اور چھوڑ دیا تو گناہگار ہوگا۔ آج کل کے معا لجین میں یہ وبا پائی جاتی ہے کہ ذرا ذرا سی بیماری میں روزہ سے منع کر دیتے ہیں ۔ اتنی بھی تمیز نہیں رکھتے کہ کس مرض میں روزہ مضر ہے کس میں نہیں۔ ایسوں کا کہنا کچھ قابل اعتبار نہیں۔

Ramzan Calendar. www.findinformations.com