Fasting (روزہ)

PCB Central Contract

PCB, PSL,

فرض روزے کی قضاکیسے ہو گی؟

جس شخص پر رمضان کے روزے کی قضا لازم ہو وہ سال میں پانچ دنوں کے علاوہ بقیہ ایام میں روزے کی قضا کرسکتاہے، پانچ دن جن میں روزہ رکھنا منع ہے وہ یہ ہیں: ایک دن عیدالفطر کا (یعنی یکم شوال)، اور چار دن ذوالحجہ کے مہینے میں لگاتار یعنی 10،11،12،13 ذوالحجہ ، ان مذکورہ پانچ دنوں کے علاوہ جس دن قضا روزہ رکھنا چاہے اس دن کی صبحِ صادق کے طلوع سے پہلے (یعنی فجر کا وقت داخل ہونے سے پہلے) روزے کی نیت کر لے، رات سے بھی روزے کی نیت کر سکتا ہے، اگر طلوعِ صبحِ صادق سے پہلے پہلے روزے کی نیت نہیں کی تو اس دن قضا روزہ رکھنا درست نہ ہو گا۔

رات کو نیت کرکے سوگیا اور سحری کے وقت آنکھ نہ کھلی تو بھی قضا روزہ درست ہوگا، کیوں کہ روزہ رکھنے کے لیے سحری کرنا شرط نہیں ہ

روزہ نہ رکھنے کی کتنی صورتوں میں اجازت ہے؟

سفر، حمل، بچہ کا دودھ پلانا، مرض، بڑھاپا، خوف ہلاکت، اکراہ، نقصان عقل اور جہاد، یہ سب روزہ نہ نہ رکھنے کے لیے عذر ہیں کہ اگر ان وجوہ میں سے کسی وجہ سے کوئی روزہ نہ رکھے تو گناہگار نہیں۔

روزہ کسے کہتے ہیں؟

روزہ جس عربی میں صوم کہتے ہیں۔ اس کے معنی ہیں ’’رکنا اور چپ رہنا‘‘قرآن کریم میں ’’صوم‘‘ کو صبر سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ جس کا خلاصہ ضبط نفس ، ثابت قدمی اور استقلال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک روزہ کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی نفسانی ہوا و ہوس اور جنسی خواہشوں میںبہک کر غلط راہ پر نہ پڑے اور اپنے اندر موجود ضبط اور ثابت قدمی کے جوہر کو ضائع ہونے سے بچائے۔

روزمرہ کے معمولات میں تین چیزیں ایسی ہیں جو انسانی جوہر کو برباد کرکے اسے ہوا وہوس کا بندہ بنا دیتی ہیں یعنی کھانا، پینا اور عورت مرد کے درمیان جنسی تعلقات انہی چیزوں کو اعتدال میں رکھنے اور ایک مقررہ مدت میں ان سے دور رہنے کانام روزہ ہے۔

لیکن اصطلاح شریعت میں مسلمان کا بہ نیت عبادت ، صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے آپ کو قصداً کھانے پینے اور جماع سے باز رکھنے کا نام روزہ ہے۔ عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے ۔

سوال :روزہ کن لوگوں پر فرض ہے؟

سوال :روزہ کن لوگوں پر فرض ہے؟

سوال :روزہ کن لوگوں پر فرض ہے؟

جواب:روزہ کی فرضیت کے لیے پانچ شرائط ہیں ، اگر ان میں کوئی ایک نہ پائی جائے تو روزہ فرض نہیں ہے ۔

  • مسلمان پر روزہ فرض ہے غیر مسلم پر فرض نہیں ، اگر کوئی غیر مسلم روزہ بھی رکھ لے ، جیسا کہ بر صغیر ہند وپاک میں کچھ غیر مسلم بھی ماہ رمضان کے احترام میں روزہ رکھتے ہیں ، انہیں روزے کا ثواب نہیں ملے گا ۔
  • عاقل اور صاحب ہوش وحواس شخص پر روزہ فرض ہے ، مجنون ، دیوانہ ، پاگل ، بے ہوش وحواس شخص پر روزہ فرض نہیں ہے ۔
  •  لڑکا ہو یا لڑکی، بالغ ہونے سے پہلے اس پر روزہ فرض نہیں ہے ۔ لیکن بچوں کو عادت ڈالنے کے لیے روزہ رکھوانا چاہئے ۔

احادیث کی روشنی میں

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :
”ہم خود روزہ رکھتیں اور اپنے چھوٹے بچوں تک کو روزہ رکھواتی تھیں ۔“ ( بخاری ) جب وہ بھوک سے رونے لگتے تو ان کا دل بہلانے کے لیے ان کے سامنے روئی سے بنے ہوئے کھلونے ڈال دیتیں ، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا ( مسلم ) حضرت عمر ص کے زمانے میں ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے رمضان المبارک میں شراب نوشی کی تھی ، آپ نے اس پر حد جاری کی اور فرمایا : تجھ پر افسوس ! تو نے اس مقدس و مبارک مہینے کے دن میں شراب پی رکھی ہے جب کہ میرے گھر کا ایک ایک بچہ بچہ روزہ رکھے ہوئے ہے ۔

اس لیے والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو ترغیب دلائیں تاکہ وہ روزہ کے عادی بن جائیں ۔ بچوں کے روزوں کا ثواب والدین کوملے گا ۔

  • انسان کے جسم میں اس قدر قوت ہوکہ وہ بھوک وپیاس کو برداشت کرے ۔ اگر کوئی شخص بیمار ، یا کمزور ہونے کی وجہ سے اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ رکھے ، تو ایسے شخص پر روزہ فرض نہیں ہے ۔
  • آدمی مقیم ہو ، مقیم پر روزے فرض ہیں ، حالت سفر میں روزہ فرض نہیں ہے ، اگر کوئی شخص رکھنا چاہے تو جائز ہے ۔

ریفرنس:اجنون.com

روزہ توڑنے کا کیاکفارہ ہے؟

سوال:روزہ توڑنے کا کیاکفارہ ہے؟

سوال:روزہ توڑنے کا کیاکفارہ ہے؟

جواب: جو شخص روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اس کے لئے روزہ توڑنے کا کفارہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھنا ہے، اگر درمیان میں ایک روزہ بھی چھوٹ گیا تو دوبارہ نئے سرے سے شروع کرے۔

۲:اگر چاند کے مہینے کی پہلی تاریخ سے روزے شروع کئے تھے تو چاند کے حساب سے دو مہینے کے روزے رکھے، خواہ یہ مہینے ۲۹، ۲۹ کے ہوں یا ۳۰، ۳۰ کے، لیکن اگر درمیان مہینے سے شروع کئے تو ساٹھ دن پورے کرنے ضروری ہیں۔

۳: جو شخص روزے رکھنے پر قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا ہر مسکین کو صدقہٴ فطر کی مقدار کا غلہ یا اس کی قیمت دے دے۔

۴:اگر ایک رمضان کے روزے کئی دفعہ توڑے تو ایک ہی کفارہ لازم ہوگا، اور اگر الگ الگ رمضانوں کے روزے توڑے تو ہر روزے کے لئے مستقل کفارہ ادا کرنا ہوگا۔

۵: اگر میاں بیوی نے رمضان کے روزے کے درمیان صحبت کی تو دونوں پر الگ الگ کفارہ لازم ہوگا۔

ریفرنس:شہیداسلام .com

 

ریفرنس:زربیحان.com