فکرمندی اور غم سے نجات کی دعائیں

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ، وَابْنُ عَبْدِکَ، وَابْنُ اَمَتِکَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَآؤُکَ، اَسْئَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ، سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ، اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ، اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ، اَوِاسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ، وَنُوْرَ صَدْرِیْ، وَجَلَآءَ حُزْنِیْ، وَذَھَابَ ھَمِّیْ ’’اے اللہ! یقیناً میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے ہی بندے اور تیری ہی کنیز کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا ہی حکم جاری و ساری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ مبنی بر انصاف ہے، میں تیرے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں جو تونے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تونے اسے علمِ غیب میں اپنے پاس (رکھنے کو) خاص کیا ہے (میں درخواست کرتا ہوں) کہ تو قرآن مجید میرے دل کی بہار بنادے اور میرے سینے کا نور، میرے غموں کا علاج اور میرے فکروں کا تریاق بنادے۔‘‘

مسند أحمد: 391/1۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *