Salaat نماز

اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کا وہ مخصوص اور پاکیزہ طریقہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم فرمایا، نماز کہلاتا ہے۔ نماز کے زریعہ انسان اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی بزرگی اور کبریائی کا اقرار کرتا ہے۔ اسی لیے نمازی آدمی خدا کا آدمی خدا کا مقبول بندہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ نماز کے طور پر دل لگا کر پڑھے۔

نماز تراویح مرد و عورت سب کے لیے بالا جماع سنت موکدہ ہے۔ اس کا ترک جائز نہیں اور تراویح میں جماعت سنت کفایہ ہے۔ کہ اگر مسجد کے سب لوگ چھوڑدیں گے تو سب گنہگارہوں گے اور اگر مسجد میں تراویح جماعت سے پڑھی جائے اور کسی ایک نے گھر میں تنہا پڑھ لی تو گنہگار نہیں مگر جو شخص مقتدا ہو کہ اس کے ہونے سے جماعت بڑی ہوتی ہے اور نہ ہونے سے لوگ کم ہو جاتے ہیں اسے بلاعذر جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں۔

نماز کے لیے جو اوقات مقرر ہیں نماز کا انھیں محدود وقتوں میں ادا کرنا فرض ہے ۔ اگر اس سے پہلے پڑھ لی تو نماز ہوگی ہی نہیں اور وقت گزار کر پڑھے گا تو قضا کہلائے گی اور یہ گنہگار ہوگا۔

وہ تین وقت ہیں۔ طلوع آفتاب کا وقت، غروب آفتاب کا وقت اور نصف النہار یعنی سور ج کے قائم ہونے سے زوال تک کا وقت ۔ طلوع و غروب کی مقدار ۲۰ منٹ ہے اور نصف النہار چالیس پینتالیس منٹ کا وقفہ ہے۔ ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل،نہ ادا نہ قضا ء اور نہ سجدۂ تلاوت نہ سجدئہ سہو۔

ہر رات دن میں ہر مسلمان پر عاقل بالغ مرد و عورت پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء۔

نماز کے لیے کچھ چیزیں نماز سے پہلے درکار ہیں انھیں ’’شروط نماز‘‘ (نماز کی شرطیں)کہا جاتا ہے، بے (بغیر) ان کے نماز ہوگی ہی نہیں۔
اور کچھ چیزیں درمیان نماز ضروری ہیں۔ انھیں فرائض نماز کہتے ہیں۔ ان میں سے اگر ایک بھی نہ پائی جائے گی، نماز نہ ہوگی۔

فجر کی نماز کا وقت پو پھٹنے کے بعد سورج نکلنے سے پہلے تک، ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد سے ہر چیز کے اصلی سایہ کے علاوہ دوگنا ہونے یعنی ڈیڑھ دو گھنٹہ دن رہنے تک ہے ، عصر کی نماز کا وقت ظہر کا وقت ختم ہونے کے بعد سے سورج ڈوبنے کے پہلے تک ہے۔ مغرب کی نماز کا وقت سورج ڈوبنے کے بعد سے شفق غائب ہونے تک یعنی مغرب کی اذان کے بعد سے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ تک اور عشاء کاوقت شفق غائب ہونے کے بعد سے فجر ہونے کے پہلے تک رہتا ہے۔

وضو کرکے پاک صاف کپڑے پہن کر پاک جگہ قبلہ کی طرف منہ کرکے دونوں پاؤں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کرکے کھڑے ہو جاؤ اور نماز کی نیت کرکے دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھاؤ ، انگلیاں اپنی حالت پررکھو اور ہتھیلیاں قبلہ رخ کر لو، اب ’’ اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئے باتھ نیچے لاؤ اور ناف کے نیچے دونوں ہاتھ اس طرح باندھو کہ داہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں کلائی کی پشت (پیٹھ) پر اور انگوٹھا اور چھنگلی کلائی کے اغل بغل (دائرہ کی صورت) اب ثناء یعنی سبحٰنک اللھم الخ پڑھو پھر تعوذ یعنی اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ط اور تسمیہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم ط پڑھ کر سورئہ فاتحہ یعنی الحمد شریف پڑھو اور الحمد کے ختم پر آہستہ سے آمین کہو، پھر کوئی سورت یا تین چھوٹی آئتیں پڑھو پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میںجاؤ اور ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ کر انگلیاں پھیلا کر گھٹنوں کو ہاتھوں سے پکڑ لو، پیٹھ بچھی ہوئی اور سر کو پیٹھ کے برابر رکھو، اونچا نیچا نہ ہو، اپنی نظر اپنے قدموں پر جمالو اور کم سے کم تین بار سبحان ربی العظیمکہو پھر تسمیع سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور تمحید یعنی اللھم ربنا ولک الحمد یا ربنا لک الحمدبھی کہہ لو، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں اس طرح جاؤ کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھو پھر ہاتھ پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پہلے ناک پھر پیشانی زمین پر جماؤ پیشانی کی ہڈی اور ناک کی نوک کا زمین سے چھونا ہر گز کافی نہیں۔

بازوں کو کروٹوں اور پیٹ کو روانوں اور ررانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھو اور دونوں پاؤں کی سب انگلیوں کے پیٹ زمین پر قبلہ رخ جمائے رکھو، ہتھیلیاں بچھی ہوئی اور انگلیاں قبلہ کی ہوں اور تین یا پانچ بار سبحٰن ربی الاعلٰیکہو پھر تکبیر کہتے ہوئے پہلے سر اٹھاؤ پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کرکے اس کی انگلیاں قبلہ رخ کرو اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھے بیٹھ جاؤ اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھو کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کی ہوں پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ اسی طرح کرو پھر سر اٹھا ؤ اور تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ کو گھٹنے پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑے ہو جاؤ۔ اٹھتے وقت زمین پر ہاتھ نہ ٹیکو۔

یہ دوسری رکعت شروع ہوئی اب صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر الحمد شریف پڑھو اور کوئی اور سورت ملاؤ اسی طرح رکوع کرو اور رکوع سے سیدھے کھڑے ہو کر اسی طرح سجدے میں جاؤ اور دونوں سجدے اسی طرح کرکے داہنا قدم کھڑا کرو اور بایاں قدم بچھا کر بیٹھ جاؤ اور اب تشہد یعنی التحیات پڑھو اور جب کلمہ ’’لا‘‘ کے قریب پہنچو تو داہنے ہاتھ کی درمیانی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بناؤ اور چھنگلی اور اس کے پاس والی کو ہتھیلی سے ملا دو اور کلمہ ’’لا‘‘ پر کلمہ کی انگلی اٹھاؤ مگر اس کو حرکت نہ دو اور کلمہ ’’الا‘‘ پر گرا کر سب انگلیاں فوراً سیدھی کر لو پھر دورد شریف پھر دعا پڑھو پھر داہنی طرف منہ پھیر کر ایک بار السلام علیکم ورحمۃ اللہپھر بائیں طرف منہ پھیر کر السلام علیکم ورحمۃ اللہکہو ۔ یہ دو رکعت نماز پوری ہوگئی۔

ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری نہیں ہے، حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ یَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ صَنَعْتَ الْیَوْمَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ قَالَ عَمْدًا صَنَعْتُہُ یَا عُمَرُ.

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضوء سے تمام نمازیں ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اﷲ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! آج آپ نے وہ کام کیا ہے جو اس سے پہلے نہیں کیا تھا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! میں نے یہ کام جان بوجھ کر کیا ہے۔

مسلم، الصحیح، 1: 232، رقم: 277، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

اور حضرت ابو اسد بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے متعلق دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ وَکُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرمایا کرتے تھے اور ہم ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے۔

أبي داود، السنن، 1: 44، رقم: 171، بیروت: دار الفکر

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، لیکن یہ خیال رکھے کہ جب تک بآسانی وضو قائم رہے تو اسی وضو سے نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر جب تنگی محسوس کرے تو نیا وضو کرنا بہتر واحسن عمل ہے۔