زکوٰۃ Zakat

زکوٰۃ دراصل اس صفتِ ہمدردی و رحم کے باقاعدہ استعمال کا نام ہے جو ایک مالدار مسلمان کے دل میں دوسرے حاجت مند مسلمان کے ساتھ فطرۃً موجود ہے یا یوں کہہ لو کہ آپس میںمسلمانوں کے درمیان ہمددری اور باہم ایک دوسرے کی مخصوص مالی امداد اور اعانت کا نام زکوٰۃ ہے، لیکن اصلاحِ شریعت میں زکوٰۃ مال کے ایک حصہ کا جو شریعت نے مقرر کیا ہے، مخصوص مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے۔

۱۔ سخاوت کے باعث اس کا سینہ کشادہ ہو جاتا ہے۔

۲۔ مال کی ناجائز محبت اس کے دل میں گھر نہیں کرتی۔

۳۔ بخل اورامساک یعنی کنجوسی سے اس کا دامن ملوث نہیں ہوتا۔

۴۔ زکوٰۃ دینے سے کاروبار اور دولت و ثروت میں ترقی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

۵۔ غرباء ومساکین کووہ اپنی ہی قوم کا ایک حصہ سمجھتا ہے، اس لیے بے حد دولت کا جمع ہو جانا بھی اس میں تکبر اور غرور پیدا نہیں ہونے دیتا۔

۶۔ غرباء و مساکین کو اس کے ساتھ ایک انس و محبت اور اس کی دولت و ثروت کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی پید ا ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے مال میں اپنا ایک حصہ موجود قائم سمجھتے ہیں۔

۷۔ دولت مند مسلمان کی دولت ایک ایسی کمپنی کی مثال پیدا کر لیتی ہے جس میں ادنیٰ و اعلیٰ حصہ دار شامل ہوتے ہیں۔

وہ لوگ جن پر مالِ زکوٰۃ صرف کرنا جائز ہے مصارفِ زکوٰۃ ہیں۔

زکوٰۃ کے مصارف سات ہیں۔ فقیر، مسکین، عامل ، رقاب، غارم، فی سبیل اللہ اور ابن السبیل۔

سونا اور چاندی جب بقدرِ نصاب ہوں ان میں زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے سونے کا نصاب بیس مثقال ہے یعنی ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب دو سو درم یعنی ساڑھے باون تولہ۔

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے مصارف زکوۃ بیان فرمائے ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ زکوۃ کی رقم کہاں اور کن مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ.

(التَّوْبَة ، 9 : 60)

بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے،

یہ وہ لوگ ہیں جو مستحقین زکوۃ ہیں جن کو زکوۃ دینی چاہیے۔ اگر اپنے قریبی رشتہ دار مستحقین زکوۃ ہوں یعنی وہ ضرورت مند ہوں تو وہ سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ اس سے زکوۃ دینے والے کو دوہرا اجر وثواب ملے گا ایک زکوۃ جو فرض ہے اس کی ادائیگی کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ اپنے قریبی رشتہ داروں میں خالہ، پھوپھی، بھانجے، بھتیجے، بھتیجیاں، داماد اگر غریب ہو، بہو اگر غریب ہو تو ان سب کو ترجیح دیں گے اگر یہ مستحقین زکوۃ ہوئے۔

اس کے علاوہ تمام نیک امور میں زکوۃ ادا کی جا سکتی ہے۔ ان تمام مقاصد کے لیے زکوۃ ادا کی جا سکتی ہے جو خیر پر مبنی ہوں، یعنی تمام رفاہی ادارے، تعلیمی ادارے، مریضوں کے علاج معالجے، غریب اور مستحقین طلباء، دینی مدارس، سکول، دیگر ضرورت مندوں کی ضروریات پر خرچ کرنا اور ہر اس کام کے لیے زکوۃ کی رقم استعمال کی جا سکتی ہے جس سے غریب اور مستحق عوام کا بھلا ہو۔

اعشاری نظام کی جو تفصیل سرکاری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہے، اس کے مطابق سونے کا نصاب ۴۷۹،۸۷گرام ہے اور چاند ی کا نصاب ۳۵۰،۶۰۷ گرام ہے۔

سونا چاندی جبکہ بقدرِ نصاب ہوں تو ان کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ ہے یعنی ان کی قیمت لگالیں اور پھر 2 1/2 فیصد کے حساب سے زکوٰۃ میں دے دیں خواہ وہ ویسے ہی ہوںیا ان کے سکے جیسے روپے اشرفیاں (اگرچہ پاک وہند بلکہ پیشتر ممالک میں یہ سکے اب نہیں پائے جاتے ) یا ان کی بنی ہوئی چیز ہو، خواہ اس کا استعمال جائز ہو جیسے عورت کے لیے زیور، مرد کے لیے چاندی کی ایک نگ کی ایک انگوٹھی ساڑے چار ماشے سے کم کی ، یا ناجائز ہو جیسے سونے چاندی کے برتن ، گھڑی، سرمہ دانی ، سلائی کہ ان کا استعمال مرد و عورت سب کے لیے حرام ہے ۔ غرض جو کچھ ہو، زکوٰۃ سب کی واجب ہے۔